سوکھا سڑا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بے رونق، بے آب؛ بمیار، کمزور، دُبلا۔ "اسے محسوس ہونے لگا جیسے اس کا من مرا نہ ہو اور سوکھا سڑا یہ پودا اب مریاں کی نظروں سے نمی پا کر پھر ترو تازہ ہوگیا ہو۔"      ( ١٩٨٩ء، افکار، کراچی، اپریل، ٦٤ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے مرکب وصفی ہے۔ پراکرت الاصل دو اسمائے صفت 'سوکھا' اور 'سٹرا' کے باہم ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٩٧٥ء کو "بسلامت روی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے رونق، بے آب؛ بمیار، کمزور، دُبلا۔ "اسے محسوس ہونے لگا جیسے اس کا من مرا نہ ہو اور سوکھا سڑا یہ پودا اب مریاں کی نظروں سے نمی پا کر پھر ترو تازہ ہوگیا ہو۔"      ( ١٩٨٩ء، افکار، کراچی، اپریل، ٦٤ )

جنس: مذکر